3 جون 2026 - 06:10
جنگ بندی کی خلاف ورزی پر امریکی اڈوں پر میزائل حملے

اسلامی جمہوریہ ایران نے آج بدھ کو علی الصبح امریکیوں کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں کویت، بحرین، امارات اور سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے مراکز کے ساتھ ساتھ اربیل میں ایران مخالف علیحدگی پسندوں کے ہیڈکوارٹر کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ منگل کی شام کو دہشت گرد امریکی فوج نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف غیرقانونی اور غیرانسانی بحری ناکہ بندی کے بہانے، بین الاقوامی پانیوں میں ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا۔

ریاستی دہشت گرد تنظیم سینٹ کام (طفل کُش امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ) نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے بوٹسوانا کے جھنڈے والے ایک خالی آئل ٹینکر کے انجن روم کو نشانہ بنایا اور اسے روک دیا، یہ جہاز جزیرہ خارک کی طرف جا رہا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی اس جارحانہ اقدام کے ردعمل میں، آبنائے ہرمز کے قریب امریکی-صہیونی بحری جہاز "پانایا" کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔

بچہ کُش امریکی فوج نے تاہم ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور جنوبی جزیرہ قشم میں ایک فوجی مواصلاتی ٹاور پر حملہ کر دیا۔

اس امریکی جارحیت کے ردعمل میں، اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی خلیج فارس کے کنارے عرب ریاستوں میں دشمن کو روکنے اور سزا دینے کے مقصد سے پشیمان کن میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔

کویت کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: "ہم مخالف میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد میں ہیں؛ فضائی دفاعی نظام مخالف اہداف سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے؛ شہریوں کو متعلقہ حکام کی طرف سے حفاظتی اور سیکورٹی ہدایات پر توجہ دینی چاہئے۔"

عرب ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ کویت کے جنوب میں شہر "السّرہ" کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی تنصیب ""علی السالم" فضائی اڈے" میں زبردست دھماکے ہوئے ہیں اور "عریفجان" اڈے کو بھی بیلسٹک میزائل کا نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ ان اڈوں کو ـ امارات، بحرین، قطر اور سعودیہ میں موجود امریکی اڈوں کی طرح ـ پہلے ہی تباہ کیا گیا تھا اور امریکیوں نے پھر بھی ان میں تعمیر نو کا کام شروع کر دیا تھا۔

چند منٹ بعد الجزیرہ نیٹ ورک نے بحرین میں وارننگ سائرن اور دفاعی نظاموں کے فعال ہونے کی خبر دی۔ ان حملوں میں، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر اور "الجفری" اڈہ نشانہ بنایا گیا۔

اس کے بعد کی غیر مصدقہ رپورٹس میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور امارات کی امریکی تنصیبات پر زبردست دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

ادھر عراقی ذریعے "صابرین نیوز" نے رپورٹ دی کہ متحدہ عرب امارات کے ساحلوں کے قریب پانیوں میں فوجی بحری جہاز میزائل اور ڈرون کی زد میں آ گئے ہیں۔

نیز غیر سرکاری ذرائع نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں بشمول "الظفرہ"، "الصفران" اور "المنہاد" کو بھاری حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

کچھ دیر بعد، دہشت گرد تنظیم سینٹ کام نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں میں امریکی فوجی ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد میں آ گئے ہیں۔

دوسری طرف، عراقی کردستان کے مرکز "اربیل" میں ایران مخالف دہشت گرد اور علیحدگی پسند ٹولوں کے ہیڈکوارٹر کئی گھنٹوں تک اسلامی جمہوریہ ایران کے توپخانے، میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد میں رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha